نریاب کے باسی، قبائل اور روایات
نریاب کی آبادی کرلاڑی بنگش پشتون قبائل پر مشتمل ہے، جن کی سماجی زندگی خاندانی کلا، شجرہ نسب اور جرگہ سسٹم کے گرد گھومتی ہے۔

بدھہ خیل بنگش شاخ
نریاب کے اکثر خاندان تاریخی طور پر کرلاڑی بنگش قبیلے کی بدھہ خیل ذیلی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاندانی شجرہ نسب بزرگوں کے حافظے اور تحریری رجسٹروں میں محفوظ ہیں، جو اراضی کی حد بندی، نہری باریوں اور باہمی فیصلوں کی بنیاد بنتے ہیں۔

روایتی کلا اور بیٹھک
نریاب میں گھر اونچی فصیل دار چاردیواری کی صورت میں بنائے جاتے ہیں جنہیں کلا کہا جاتا ہے۔ پتھر اور مٹی کی موٹی دیواریں بڑے خاندانی صحن کا احاطہ کرتی ہیں جہاں مشترکہ خاندان رہتے ہیں، تندور میں روٹی پکتی ہے اور مال مویشی بندھتے ہیں۔
مرکزی دروازے کے قریب ایک بیٹھک ہوتی ہے جہاں مہمانوں اور ملاقاتیوں کا استقبال کیا جاتا ہے تاکہ اندرونی گھریلو پردہ مکمل محفوظ رہے۔
نریاب کے باسیوں کے ذرائع معاش
کاشتکاری اور پھل
گندم کی پیداوار، خوبانی، بیر اور آڑو کے باغات کی دیکھ بھال اور دودھ مکھن کے لیے مال مویشی پالنا۔
خلیجی ترسیلات زر
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر میں محنت مزدوری اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستگی جس سے گاؤں میں خوشحالی آتی ہے۔
بازار کی دکانداری
پرچون کی دکانیں، آٹا چکیاں، دوآبہ اور نریاب کے درمیان ٹرانسپورٹ اور لکڑی و تعمیراتی کام۔
فوج اور تدریس
پاک فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور علاقے کے سرکاری اسکولوں و طبی مراکز میں خدمات سرانجام دینا۔
جرگہ اور تنازعات کا باہمی تصفیہ
نریاب میں اراضی اور پانی کے بیشتر مسائل کچہری جانے کے بجائے جرگہ کے ذریعے طے پاتے ہیں۔ جرگے میں علاقے کے معتبر اور غیر جانبدار مشران (بزرگ) شامل ہوتے ہیں جو روایتی پشتون قوانین (نرخ) کا گہرا علم رکھتے ہیں۔
دونوں فریق اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔ جرگے کے فیصلے کو سماجی سطح پر احترام اور قبولیت حاصل ہوتی ہے، جس سے معاشرے میں خاندانی دشمنیوں اور طویل مقدمہ بازی کا خاتمہ ہوتا ہے۔