نریاب کی زمینی حقیقتیں اور مسائل
قدرتی حسن اور باغات کی فراوانی کے ساتھ ساتھ، نریاب کے عوام کو بنیادی شہری سہولیات کے سنگین فقدان کا سامنا ہے جو روزمرہ زندگی کو متاثر کرتا ہے۔
ترجیحی بنیادی مسائل
1. بجلی کا بحران اور طویل لوڈ شیڈنگ
علاقائی فیڈر سے بجلی کی ترسیل انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ روزانہ کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے پینے کے پانی کے ٹیوب ویل بند رہتے ہیں، آٹا چکیاں مہنگے ڈیزل پر چلتی ہیں اور طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔
2. دوآبہ تا نریاب لنک روڈ اور گیس کا حق
اگرچہ ضلع ہنگو قومی گرڈ کو گیس فراہم کرتا ہے، مگر نریاب میں سوئی گیس موجود نہیں۔ بارہ کلومیٹر طویل مرکزی لنک روڈ کی توسیع اور مرمت کے فنڈز انتظامی تاخیر کا شکار ہیں جس سے پھلوں کی منڈیوں تک رسائی میں دقت ہوتی ہے۔
3. بنیادی مرکز صحت اور زچہ و بچہ کی دیکھ بھال
مقامی ڈسپنسری صرف معمولی پٹی اور بخار کی دوائی تک محدود ہے۔ مستقل لیڈی ڈاکٹر یا تشخیصی لیبارٹری نہ ہونے کے باعث ایمرجنسی میں مریضوں اور زچگی کے کیسز کو تھل یا ہنگو لے جانا پڑتا ہے۔
4. طالبات کی ہائر سیکنڈری تعلیم کا فقدان
لڑکے تو کالج کے لیے تھل یا کوہاٹ چلے جاتے ہیں، لیکن نریاب میں گرلز ہائر سیکنڈری اسکول یا ڈگری کالج نہ ہونے کی وجہ سے اکثر باصلاحیت لڑکیاں دسویں جماعت کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہیں۔
عوامی جرگے اور اپنی مدد آپ کے منصوبے
نریاب کے باشندے اپنے حقوق کے لیے پرامن جرگوں اور نریاب خبرونہ جیسے مقامی فورمز کے ذریعے ضلعی انتظامیہ کے سامنے مطالبات پیش کرتے ہیں۔
بیرون ملک مقیم نریاب کے سپوت بھی اپنی بستی کے مسائل حل کرنے میں آگے رہتے ہیں: پینے کے صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹس لگانا، اسکولوں کی مالی معاونت کرنا اور لوڈ شیڈنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے پینے کے کنوؤں پر سولر پینل لگانا ان کی نمایاں خدمات ہیں۔