
سپین گیر کا پہاڑی راستہ اور چوٹیاں
زرگری کی طرف جانے والا بلند شمالی پہاڑی سلسلہ جہاں سے پوری وادی نریاب، ڈیم کی جھیل اور دور تک میدانی علاقوں کا دلکش نظارہ ہوتا ہے۔
تحصیل تھل کے پہاڑی طاس میں واقع نریاب اپنے نیلگوں آبی ذخیرے، چٹانی ڈھلوانوں، سرسبز کھیتوں اور روایتی حجروں سے پہچانا جاتا ہے۔

شمالی پہاڑی جھرنوں اور برسات کے سنگم پر تعمیر کیا گیا نریاب ڈیم وادی کا سب سے اہم آبی منصوبہ ہے۔ یہ جھیل زیریں باغات کو قدرتی ڈھلوان نہروں کے ذریعے پانی فراہم کرتی ہے اور شام کے وقت سیر و تفریح کا مرکز ہے۔

زرگری کی طرف جانے والا بلند شمالی پہاڑی سلسلہ جہاں سے پوری وادی نریاب، ڈیم کی جھیل اور دور تک میدانی علاقوں کا دلکش نظارہ ہوتا ہے۔

چونے کے پتھر اور خشک جنگلی بوٹیوں پر مشتمل یہ پہاڑ وادی کو بیرونی ہواؤں سے محفوظ رکھتے ہیں اور موسم کو خوشگوار بناتے ہیں۔

نہری پانی سے سیراب ہونے والے خوبانی، آڑو، بیر اور گندم کے کھیت بہار اور گرما میں وادی کو زمرد جیسی ہریالی عطا کرتے ہیں۔
ڈیم کی گھاٹی کے قریب واقع تاریخی محلہ جہاں قدیم پتھریلی دیواروں والے روایتی کلا مکانات اور نہری موڑ موجود ہیں۔
نریاب کا تجارتی اور سماجی مرکز جہاں روزمرہ کی دکانیں، چائے کے روایتی ڈھابے اور جامع مسجد واقع ہے جہاں عوامی اعلانات ہوتے ہیں۔
بازار سے جنوب کی جانب پھیلی ہموار زمین جہاں گندم کے کھیت اور خوبانی کے باغات کی سب سے بڑی تعداد واقع ہے۔
کوہاٹ اور تھل ہائی وے پر واقع مرکزی تجارتی قصبہ جہاں سے نریاب کے لیے گاڑیاں اور ضروری سامان ملتا ہے۔
شمالی پہاڑی سلسلے کے پار واقع ہمسا یہ بستی جو قدیم پیدل اور مال مویشی کے راستوں سے جڑی ہوئی ہے۔
ہنگو شہر کی جانب مشرقی راستے پر واقع ایک اہم زرعی و کسان بستی۔
تنگ چٹانی گھاٹیوں کا تاریخی راستہ جو کرم وادی اور قبائلی دروں سے ملتا ہے۔